نمبر 2777کتاب 13، نمبر 283عربی نمبر شمار 762.04
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَبْدَةَ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ - رضى الله عنه - فَقُلْتُ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ . فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لاَ يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . ثُمَّ حَلَفَ لاَ يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ بِالْعَلاَمَةِ أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لاَ شُعَاعَ لَهَا .
سفیان بن عیینہ نے عبد ہ اور عا صم بن ابی نجود سے روایت کی ، ان دو نوں نے حضرت زربن حبیش ؒ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : آپ کے بھا ئی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو سال بھر ( رات کو ) قیام کرے گا ۔ وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا ۔ انھوں نے فر ما یا : " اللہ ان پر رحم فر ما ئے انھوں نے چا ہا کہ لو گ ( کم راتوں کی عبادت پر ) قناعت نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جا نتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستا ئیسویں رات ہے ۔ پھر انھوں نے استثناکیے ( ان شاء اللہ کہے ) بغیر قسم کھا کر کہا : وہ ستا ئیسویں رات ہی ہے اس پر میں نے کہا : ابو منذرا ! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا ئی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے اس کی شعائیں ( نما یاں ) نہیں ہو تیں ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔