سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 2731

نمبر 2731کتاب 13، نمبر 237عربی نمبر شمار 1159.03
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏"‏ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ نِصْفُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ ‏"‏ وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏ وَلَكِنْ قَالَ ‏"‏ وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : "" ہر مہینے میں تین دن "" کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے : "" تمھارے لئے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس ( نیکیاں ) ہیں ۔ ، تو یہ سارے سال کے ( روزے ) ہیں ۔ "" اور ( اس ) حدیث میں کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیاتھا؟فرمایا : "" آدھا سال ۔ "" اورانھوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انھوں نے؛ "" تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے "" کے الفاظ بیا ن نہیں کیے ، اس کی بجائے انھوں نے کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) "" اور تمھاری اولاد کا تم پرحق ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 13 · The Book of Fasting

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔