نمبر 2629کتاب 13، نمبر 135عربی نمبر شمار 1121.05
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ " . قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ " هِيَ رُخْصَةٌ " . وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ .
ابو طاہر ، ہارون بن سعید ، ہارون ، ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن حارث ، ابی اسود ، عروۃ بن زبیر ، ابی مرواح ، حضرت حمزہ بن عمراسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت ر کھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھاکیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہارون نے اپنی حدیث میں رخصۃ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔