سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 2406

نمبر 2406کتاب 12، نمبر 143عربی نمبر شمار 1045.02
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - الْعَطَاءَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلاَ يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ ‏.‏
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کو لے لو اور اپنا مال بنالو یا اسے صدقہ کردو اور اس مال میں سے جو تمہار ےپاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو ( مال ) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ ۔ "" سالم نے کہا : اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انھیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 12 · The Book of Zakat

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔