نمبر 2254کتاب 11، نمبر 130عربی نمبر شمار 973.03
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتِ ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ . فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنَىْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ . قَالَ مُسْلِمٌ سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ .
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ جب حضر ت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی انکی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔ ان کی اس بات پر اعتراض کیا گیا تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی ( سہل ) رضوان اللہ عنھم اجمعین کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : سہیل بن دعد ، جو ابن بیضاء ہے ، اس کی ماں بیضاء تھیں ۔ ( بیضاء کا اصل نام دعد تھا ، سہیل کے والد کا نام وہب بن ربیعہ تھا ، اسے شرف صحبت حاصل نہ ہوا ۔)
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔