سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 2106

نمبر 2106کتاب 10، نمبر 15عربی نمبر شمار 906.01
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ فَزِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا - قَالَتْ تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ - فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلاً لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَكَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ‏.‏
خالد بن حارث نے کہا : ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھ سے منصور بن عبدالرحٰمن نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے اور انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک دن نبی اکرم ﷺ تیزی سے ( لپک کر ) گئے ۔ کہا : ان کی مراد اس دن سے تھی جس دن سورج کو گرہن لگا تھا ۔ ۔ تو ( جلدی میں ) آپ نے ایک زنانہ قمیض اٹھالی حتیٰ کہ پیچھے سے آپ کو آپ کی چادر لا کر دی گئی ۔ آپ نے لوگوں کی امامت کرتے ہوئے انتہائی طویل قیام کیا ۔ اگرکوئی ایسا انسان آتا جس کو یہ پتہ نہ ہوتا کہ آ پ ( قیام کے بعد ) رکوع کرچکے ہیں تو اس قیام کی لمبائی کی بنا پر وہ کبھی نہ کہہ سکتا کہ آپ ( ایک دفعہ ) رکوع کرچکے ہیں ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 10 · The Book of Prayer - Eclipses

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔