سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 506

نمبر 506کتاب 1، نمبر 412عربی نمبر شمار 207.01
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، قَالاَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ قَالَ انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلاَ أَعْلاَهَا حَجَرًا ثُمَّ نَادَى ‏"‏ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن زریع نے ( سلیمان ) تیمی سے ، انہوں نے ابو عثمان کے واسطے سے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، دونوں نےکہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ اتری ، کہا : تو اللہ کے نبی ﷺ ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے ، پھر آواز دی : ’’ اے عبد مناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں ، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تووہ بلند آواز سے پکارنے لگاؤ : وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 1 · The Book of Faith

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔