سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 481

نمبر 481کتاب 1، نمبر 387عربی نمبر شمار 194.02
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ فَنَهَسَ نَهْسَةً فَقَالَ ‏"‏ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى فَقَالَ ‏"‏ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لاَ يَسْأَلُونَهُ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تَقُولُونَ كَيْفَهْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا كَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي الْكَوْكَبِ هَذَا رَبِّي ‏.‏ وَقَوْلَهُ لآلِهَتِهِمْ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ‏.‏ وَقَوْلَهُ إِنِّي سَقِيمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى عِضَادَتَىِ الْبَابِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ هَجَرٍ وَمَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَ ‏.‏
(ایک دوسرے سند سے ) عمارہ بن قعقاع نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہﷺ کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا ، آپ نے دستی اٹھائی ، آپ کو بکری ( کے گوشت ) میں سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا ، آپ نےاس میں سے ایک بار اپنے داندان مبارک سے تناول کیا اور فرمایا : ’’میں قیامت کےدن تمام لوگوں کاسردار ہوں گا ۔ ‘ ‘ پھر دوبارہ تناول کیا اور فرمایا : ’’میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ۔ ‘ ‘ جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے ساتھی ( اس کے بارےمیں ) آپ سے کچھ نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا : ’’ تم پوچھتے کیوں نہیں کہ یہ کیسے ہو گا؟ انہوں نے پوچھا : یہ کیسے ہو گا؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’لوگ رب العالمین کے سامنےکھڑے ہو ں گے..... ‘ ‘ ( عمارہ نے بھی ) ابوزرعہ کے حوالے سے ابو حیان کی بیان کردہ حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں یہ اضافہ کیا : ( آپﷺ نے ) فرمایا : ابراہیم علیہ السلام نےستارے کے بارے میں اپنا قول : ’’یہ میرا رب ہے ‘ ‘ اور ان کے معبودوں کے بارے میں یہ کہنا : ’’ بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے ‘ ‘ اور یہ کہنا : ’’میں بیمار ہوں ‘ ‘ یاد کیا ۔ ( رسول اللہ ﷺنے ) فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے ! چوکھٹ کےدونوں بازؤں تک جنت کے کواڑوں میں سے ( ہر ) دو کواڑوں کے درمیان : اتنا فاصلہ ہے کہ جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ، یا ( فرمایا ) ہجر اور مکہ کےدرمیان ہے ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 1 · The Book of Faith

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔