سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 413

نمبر 413کتاب 1، نمبر 318عربی نمبر شمار 162.03
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَاهُ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ‏.‏ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ - يَعْنِي ظِئْرَهُ - فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ‏.‏ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقَعُ اللَّوْنِ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ ‏.‏
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا : یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔ پھر سونے کی طشت میں دل کو رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے ملا دیا اور پھر اسے اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر باقی بچے آپ کی ماں یعنی دائی کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور بولے کہ محمد کو مار دیا گیا۔ تو لوگوں نےآپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے سینے پر اس سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔

ترجمہ: HadeethEnc.comاس کی تشریح

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 1 · The Book of Faith

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔