نمبر 382کتاب 1، نمبر 289عربی نمبر شمار 151.01
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ { رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} قَالَ " وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہم ابراہیم سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں ، جب انہوں نے کہا تھا : ’’ اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تمہیں یقین نہیں ؟ کہا : کیوں نہیں ! لیکن ( میں اس لیے جاننا چاہتا ہوں ) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اور اللہ لوط رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے ، ( وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے ) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی ۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو ( ہوسکتا ہے ) بلانے والے کی بات مان لیتا ۔ ‘ ‘ ( عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا ۔)
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔