سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 119

نمبر 119کتاب 1، نمبر 27عربی نمبر شمار 18.02
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي غَيْرُ، وَاحِدٍ، لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ ‏.‏ وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ ‏ "‏ وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ أَوِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنَ التَّمْرِ ‏.‏
ابن ابی عدی نے سعید کےحوالے سے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبد القیس کے وفد سے ملاقات کرنےوالے ایک سے زائد افراد نے بتایا اور ان میں سے ابو نضرہ کانام لیا ( ابو نضرہ نے ) حضرت ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا .... ، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی ، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’تم اس میں ملی جلی کھجوریں ، ( عام ) کھجوریں اور پانی ڈالتے ہو ۔ ‘ ‘ ( اور ابن ابی عدی نے اپنی روایت میں ) یہ الفاظ ذکر نہیں کیے کہ سعید نے کہا ، یا آپﷺ نے فرمایا : ’’کچھ کھجوریں ڈالتے ہو ۔ ‘ ‘

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 1 · The Book of Faith

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔