سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1854

نمبر 1854کتاب 58، نمبر 14
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلاً مِنَ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ - وَكَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ - ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لاَ يَصْلُحُ لِي وَلاَ لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ كَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لاَ يَصْلُحُ لِي وَلاَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ أَسْأَلُكَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا ‏.‏
ابو بکر بن محمد ، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرخ ہو جاتیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • DaifSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 58 · Sadaqa

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔