سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1795

نمبر 1795کتاب 54، نمبر 33
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَيْفِيٍّ، مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلاَتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِهِ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ لأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ أَنِ اجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيهِ فَتًى حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ فَبَيْنَا هُوَ بِهِ إِذْ أَتَاهُ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أُحْدِثُ بِأَهْلِي عَهْدًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ خُذْ عَلَيْكَ سِلاَحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ بَنِي قُرَيْظَةَ ‏"‏ فَانْطَلَقَ الْفَتَى إِلَى أَهْلِهِ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً بَيْنَ الْبَابَيْنِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعُنَهَا وَأَدْرَكَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لاَ تَعْجَلْ حَتَّى تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِي بَيْتِكَ ‏.‏ فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ فَرَكَزَ فِيهَا رُمْحَهُ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فَنَصَبَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ وَخَرَّ الْفَتَى مَيِّتًا فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَى أَمِ الْحَيَّةُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو سائب سے مولیٰ ہشام بن زہرہ کے روایت ہے (کہتے ہیں) کہ میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا اتنے میں، میں نے ان کے تخت کے تلے سرسراہٹ سنی، دیکھا تو سانپ ہے میں اس کے مارنے کو اٹھا ابوسعید نے اشارہ کیا بیٹھ جا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اشارہ کرنا درست ہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کوٹھڑی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس نے نئی شادی کی تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ خندق میں گیا پھر وہ یکایک آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت دیجیے میں نے شادی کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی اور فرمایا ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریضہ کا خوف ہے وہ نوجوان ہتھیار لے کر گیا جب گھر پہنچا تو بیوی کو دیکھا دروازہ پر کھڑی ہے اس نوجوان نے غیرت سے برچھا اس کے مارنے کو اٹھایا وہ بولی جلدی مت کر اپنے گھر میں جا کر دیکھ کہ اس میں کیا ہے وہ گھر میں گیا دیکھا تو ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے اس کے بچھونے پر بیٹھا ہوا ہے وہ نوجوان سانپ کو برچھی سے چھید کر نکلا اور برچھی کو گھر میں کھڑا کر دیا وہ سانپ اس برچھی کی نوک میں پیچ کھاتا رہا اور نوجوان اسی وقت مر گیا معلوم نہیں سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان پہلے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا مدینہ میں جن مسلمان ہوگئے ہیں۔ تو جب تم کسی سانپ کو دیکھو تو تین روز تک اسے آگاہ کیا کرو اگر بعد اس کے بھی نکلے تو اس کو مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 54 · General Subjects

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔