سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1770

نمبر 1770کتاب 54، نمبر 8
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک تکیہ خریدا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو رہے اور اندر نہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول سے میرا کیا گناہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں نے اس تکیے کو اس لئے خریدا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تصویر بنانے والے عذاب دیئے جائیں گے قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا تم جان ڈالو ان صورتوں کو جن کو تم نے دنیا میں بنایا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں تصویرں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 54 · General Subjects

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔