نمبر 1713کتاب 50، نمبر 3
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنَىْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا " مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ " . فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلاَّ أَنَّا لاَ نَدْرِي مَا يُوَافِقُكَ مِنْ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَىْءٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihSalim al-Hilali