نمبر 1600کتاب 45، نمبر 3
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ الأَجْدَعِ، أَنْ يُحَنَّسَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلاَةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ . فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ اقْعُدِي لُكَعُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَصْبِرُ عَلَى لأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
یحنس جو مولیٰ تھا زبیر بن عوام کا نقل کرتا ہے میں بیٹھا تھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اتنے میں ایک لونڈی آئی ان کی اور بولی میں مدینہ سے نکلنا چاہتی ہوں اے ابوعبدالرحمن کیونکہ یہاں سختیاں ہیں اور وہ زمانہ فساد کا تھا مدینہ میں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بیٹھ نالائق میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے مدینہ کی تکلیف اور سختیوں پر جو صبر کرے گا میں اس کا قیامت کے روز گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihSalim al-Hilali