سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1488

نمبر 1488کتاب 38، نمبر 25
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ السَّائِبَةِ، قَالَ يُوَالِي مَنْ شَاءَ فَإِنْ مَاتَ وَلَمْ يُوَالِ أَحَدًا فَمِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي السَّائِبَةِ أَنَّهُ لاَ يُوَالِي أَحَدًا وَأَنَّ مِيرَاثَهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلَهُ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ يُسْلِمُ عَبْدُ أَحَدِهِمَا فَيُعْتِقُهُ قَبْلَ أَنْ يُبَاعَ عَلَيْهِ إِنَّ وَلاَءَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِلْمُسْلِمِينَ وَإِنْ أَسْلَمَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ الْوَلاَءُ أَبَدًا ‏.‏ قَالَ وَلَكِنْ إِذَا أَعْتَقَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ عَبْدًا عَلَى دِينِهِمَا ثُمَّ أَسْلَمَ الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ الَّذِي أَعْتَقَهُ ثُمَّ أَسْلَمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ الْوَلاَءُ لأَنَّهُ قَدْ كَانَ ثَبَتَ لَهُ الْوَلاَءُ يَوْمَ أَعْتَقَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ كَانَ لِلْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ وَلَدٌ مُسْلِمٌ وَرِثَ مَوَالِيَ أَبِيهِ الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَ الْمَوْلَى الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ وَإِنْ كَانَ الْمُعْتَقُ حِينَ أُعْتِقَ مُسْلِمًا لَمْ يَكُنْ لِوَلَدِ النَّصْرَانِيِّ أَوِ الْيَهُودِيِّ الْمُسْلِمَيْنِ مِنْ وَلاَءِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ شَىْءٌ لأَنَّهُ لَيْسَ لِلْيَهُودِيِّ وَلاَ لِلنَّصْرَانِيِّ وَلاَءٌ فَوَلاَءُ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا سائبہ کا حکم انہوں نے کہا سائبہ جس شخص سے چاہے عقد موالات کرے اگر مر جائے اور کسی سے موالات نہ کرے تو اس کی میراث مسلمانوں کو ملے گی اگر وہ جنایر کرے گا تو دیب بھی وہی دیں گے ۔ کہا مالک نے میرے نزدیک یہ ہے کہ سائبہ کسی سے عقد موالات نہ کرے اور میراث اس کی مسلمانوں کے ملے گی اور دیت بھی رہی دیں گے ۔ کہا مالک نے اگر یہودی یا نصرانی کا لڑکا مسلمان ہو تو وہ اپنے باپ کے آزاد کئے ہوئے غلام کی ولاء پائے گا جب وہ غلام مسلمان ہو گیا ہو مگر باپ اس کا مسلمان نہ ہوا ہو جس نے آزاد کیا ہے اور اگر وہ غلام آزادی کے وقت بھی مسلمان تھا تو یہودی یا نصانی کے مسلمان لڑکے کو ولاء نہ ہوگی بلکہ وہ مسلمانوں کا حق ہوگی۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 38 · Setting Free and Wala'

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔