نمبر 1419کتاب 36، نمبر 21
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - يُقَالُ لَهُ ابْنُ خَيْبَرِيٍّ - وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهُمَا مَعًا فَأَشْكَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَضَاءُ فِيهِ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ ذَلِكَ فَسَأَلَ أَبُو مُوسَى عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ هَذَا الشَّىْءَ مَا هُوَ بِأَرْضِي عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي . فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى كَتَبَ إِلَىَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ . فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے شام والوں میں سے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا تو مار ڈالا اس مرد کو یا مرد عورت دونوں کو معاویہ بن ابی سفیان ان کو اس فیصلہ دشوار ہوا انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ تم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسئلہ کو پوچھو ابوموسیٰ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا حضرت علی نے کہا یہ واقعہ میرے ملک میں نہیں ہوا میں تم کو قسم دیتا ہوں تم سچ بیان کرو کہاں یہ امر ہوا ابوموسیٰ نے کہا مجھے معاویہ بن سفیان نے لکھا ہے کہ میں تم سے اس مسئلہ کو پوچھوں حضرت علی نے کہا میں ابوا لحسن ہوں اگر چار گواہ نہ لائے تو قتل پر راضی ہو جائے ۔
ماخذ میں درج درجات
- HasanSalim al-Hilali