سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1357

نمبر 1357کتاب 31، نمبر 19
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ آخُذُ سِلْعَتَكَ بِكَذَا وَكَذَا عَلَى أَنْ تُسْلِفَنِي كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَإِنْ عَقَدَا بَيْعَهُمَا عَلَى هَذَا فَهُوَ غَيْرُ جَائِزٍ فَإِنْ تَرَكَ الَّذِي اشْتَرَطَ السَّلَفَ مَا اشْتَرَطَ مِنْهُ كَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ جَائِزًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الثَّوْبُ مِنَ الْكَتَّانِ أَوِ الشَّطَوِيِّ أَوِ الْقَصَبِيِّ بِالأَثْوَابِ مِنَ الإِتْرِيبِيِّ أَوِ الْقَسِّيِّ أَوِ الزِّيقَةِ أَوِ الثَّوْبِ الْهَرَوِيِّ أَوِ الْمَرْوِيِّ بِالْمَلاَحِفِ الْيَمَانِيَّةِ وَالشَّقَائِقِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ الْوَاحِدُ بِالاِثْنَيْنِ أَوِ الثَّلاَثَةِ يَدًا بِيَدٍ أَوْ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ نَسِيئَةٌ فَلاَ خَيْرَ فِيهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَصْلُحُ حَتَّى يَخْتَلِفَ فَيَبِينَ اخْتِلاَفُهُ فَإِذَا أَشْبَهَ بَعْضُ ذَلِكَ بَعْضًا وَإِنِ اخْتَلَفَتْ أَسْمَاؤُهُ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ الثَّوْبَيْنِ مِنَ الْهَرَوِيِّ بِالثَّوْبِ مِنَ الْمَرْوِيِّ أَوِ الْقُوهِيِّ إِلَى أَجَلٍ أَوْ يَأْخُذَ الثَّوْبَيْنِ مِنَ الْفُرْقُبِيِّ بِالثَّوْبِ مِنَ الشَّطَوِيِّ فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الأَجْنَاسُ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَلاَ يُشْتَرَى مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ ‏.‏
رسول اللہ نے منع کیا ہے بیع سے اور سلف سے ۔ کہا مالک نے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے میں تیرا اسباب اس شرط سے لیتا ہوں کہ وہ مجھ سے سلف کرے اس طرح تو یہ جایز نہیں اگر سلف کی شرط موقوف کردے تو بیع جائز ہوجائے گی۔ کہا مالک نے جن کپڑوں میں کھلم کھلا فرق ہے ان میں سے ایک کو دو یا تین کے بدلے میں بیع کرنا نقدا نقد یا میعاد پر طرح سے درست ہے اور جب ایک کپڑا دوسرے کپڑے کے مشابہ ہو اگر نام جدا جدا ہوں تو کمی بیشی درست ہے مگر ادھار درست نہیں ۔ کہا مالک نے جس کپڑے کو خریدا اس کا بیچنا قبل قبضے کے بائع (بچنے والا) کے سوا اور کسی کے ہاتھ درست ہے ۔ جب کہ اس کی قیمت نقد لے لے۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 31 · Business Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔