سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1342

نمبر 1342کتاب 31، نمبر 4
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ مُعَيْقِيبٍ الدَّوْسِيِّ، مِثْلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنْ لاَ تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَلاَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَلاَ الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ وَلاَ التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ وَلاَ الْحِنْطَةُ بِالزَّبِيبِ وَلاَ شَىْءٌ مِنَ الطَّعَامِ كُلِّهِ إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الأَجَلُ لَمْ يَصْلُحْ وَكَانَ حَرَامًا وَلاَ شَىْءَ مِنَ الأُدْمِ كُلِّهَا إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يُبَاعُ شَىْءٌ مِنَ الطَّعَامِ وَالأُدْمِ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ فَلاَ يُبَاعُ مُدُّ حِنْطَةٍ بِمُدَّىْ حِنْطَةٍ وَلاَ مُدُّ تَمْرٍ بِمُدَّىْ تَمْرٍ وَلاَ مُدُّ زَبِيبٍ بِمُدَّىْ زَبِيبٍ وَلاَ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْحُبُوبِ وَالأُدْمِ كُلِّهَا إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ وَإِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ إِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ لاَ يَحِلُّ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ الْفَضْلُ وَلاَ يَحِلُّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا اخْتَلَفَ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ وَصَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ زَبِيبٍ وَصَاعٌ مِنْ حِنْطَةٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ سَمْنٍ فَإِذَا كَانَ الصِّنْفَانِ مِنْ هَذَا مُخْتَلِفَيْنِ فَلاَ بَأْسَ بِاثْنَيْنِ مِنْهُ بِوَاحِدٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الأَجَلُ فَلاَ يَحِلُّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ تَحِلُّ صُبْرَةُ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ وَلاَ بَأْسَ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ وَذَلِكَ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ جِزَافًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَا اخْتَلَفَ مِنَ الطَّعَامِ وَالأُدْمِ فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ جِزَافًا يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَهُ الأَجَلُ فَلاَ خَيْرَ فِيهِ وَإِنَّمَا اشْتِرَاءُ ذَلِكَ جِزَافًا كَاشْتِرَاءِ بَعْضِ ذَلِكَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ جِزَافًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّكَ تَشْتَرِي الْحِنْطَةَ بِالْوَرِقِ جِزَافًا وَالتَّمْرَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا فَهَذَا حَلاَلٌ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ صَبَّرَ صُبْرَةَ طَعَامٍ وَقَدْ عَلِمَ كَيْلَهَا ثُمَّ بَاعَهَا جِزَافًا وَكَتَمَ الْمُشْتَرِي كَيْلَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ فَإِنْ أَحَبَّ الْمُشْتَرِي أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ الطَّعَامَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ بِمَا كَتَمَهُ كَيْلَهُ وَغَرَّهُ وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا عَلِمَ الْبَائِعُ كَيْلَهُ وَعَدَدَهُ مِنَ الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ ثُمَّ بَاعَهُ جِزَافًا وَلَمْ يَعْلَمِ الْمُشْتَرِي ذَلِكَ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ خَيْرَ فِي الْخُبْزِ قُرْصٍ بِقُرْصَيْنِ وَلاَ عَظِيمٍ بِصَغِيرٍ إِذَا كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ أَكْبَرَ مِنْ بَعْضٍ فَأَمَّا إِذَا كَانَ يَتَحَرَّى أَنْ يَكُونَ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُوزَنْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَصْلُحُ مُدُّ زُبْدٍ وَمُدُّ لَبَنٍ بِمُدَّىْ زُبْدٍ وَهُوَ مِثْلُ الَّذِي وَصَفْنَا مِنَ التَّمْرِ الَّذِي يُبَاعُ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ بِثَلاَثَةِ أَصْوُعٍ مِنْ عَجْوَةٍ حِينَ قَالَ لِصَاحِبِهِ إِنَّ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ بِثَلاَثَةِ أَصْوُعٍ مِنَ الْعَجْوَةِ لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُجِيزَ بَيْعَهُ وَإِنَّمَا جَعَلَ صَاحِبُ اللَّبَنِ اللَّبَنَ مَعَ زُبْدِهِ لِيَأْخُذَ فَضْلَ زُبْدِهِ عَلَى زُبْدِ صَاحِبِهِ حِينَ أَدْخَلَ مَعَهُ اللَّبَنَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالدَّقِيقُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ لاَ بَأْسَ بِهِ وَذَلِكَ لأَنَّهُ أَخْلَصَ الدَّقِيقَ فَبَاعَهُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلَوْ جَعَلَ نِصْفَ الْمُدِّ مِنْ دَقِيقٍ وَنِصْفَهُ مِنْ حِنْطَةٍ فَبَاعَ ذَلِكَ بِمُدٍّ مِنْ حِنْطَةٍ كَانَ ذَلِكَ مِثْلَ الَّذِي وَصَفْنَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ فَضْلَ حِنْطَتِهِ الْجَيِّدَةِ حَتَّى جَعَلَ مَعَهَا الدَّقِيقَ فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ ‏.‏
عبدالرحمن بن اسود کے جانور کا چارہ تمام ہو گیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا ۔ ابن معیقب دوسری سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نہ بیچا جائے گا گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور کھجور بدلے کھجور کے اور گیہوں بدلے میں کھجور کے اور کھجور بدلے میں انگور کے مگر نقدا نقد کسی طرف میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو حرام ہو جائے گا اسی طرح جتنی چیزیں روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ بدلے تو نقدا نقد لے۔ کہا مالک نے جتنی کھانے کی چیزیں ہیں یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں ۔ مثلا ایک مد گیہوں کو دو مد گیہوں کے بدلے میں یا ایک مد کھجور کو دو مد کھجور کے بدلے میں یا ایک مد انگور کو دو مد انگور کے بدلے میں نہ بیچیں گے اسی طرح جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب ان کی جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں اگرچہ نقدا نقد ہو جیسے کوئی چاندی کو چاندی کے بدلے میں اور سونے کو سونے کے بدلے میں اور بیچے تو کمی بیشی درست نہیں بلکہ ان سب چیزوں میں ضروری ہے کہ برابر ہوں ۔ اور نقدا نقد ہوں ۔ کہا مالک نے جب جنس میں اختلاف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا چاہیے جیسے کوئی ایک صاع کھجور کو دو صاع گیہوں کے بدلے میں یا ایک صاع کھجور کو دو صاع انگور کے بدلے یا ایک صاع گیہوں کے دو صاع گھی کے بدلے میں خریدے تو کچھ قباحت نہیں جب نقدا نقد ہوں میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو درست نہیں ۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر دوسرا گیہوں کا بورا اس کے بدلے میں لے یہ درست ہے کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر کھجور کا بورا اس کے بدلے میں لے نقدا نقد کیونکہ کھجور کو گیہوں کے بدلے میں ڈھیر لگا کر اٹکل سے بیچنا درست ہے۔ کہا مالک نے جتنی چیزیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی ہیں جب ان میں جنس مختلف ہو تو ایک دوسرے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر بیچنا درست ہے جب نقدا نقد ہو اگر اس میں میعاد ہو تو درست نہیں جیسے کوئی چاندی سونے کے بدلے میں ان چیزوں کا ڈھیر لگا کر بیچے تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے گیہوں تول کر ایک ڈھیر بنایا اور وزن چھپا کر کسی کے ہاتھ یبچا تو یہ درست نہیں ۔ اگر مشتری (خریدنے والا) یہ چاہے کہ وہ گیہوں بائع (بچنے والا) کو واپس کر دے اس وجہ سے کہ بائع (بچنے والا) نے دیا ہو دانستہ وزن کو اس سے چھپایا اور دھوکا دیا تو ہو سکتا ہے اسی طرح جو چیز بائع (بچنے والا) وزن چھپا کر بیچے تو مشتری (خریدنے والا) کا اس کے پھیر دینے کا اختیار ہے اور ہمیشہ اہل علم اس بیع کو منع کرتے رہے۔ کہا مالک نے ایک روٹی کو دو روٹیوں سے بدلنا یا بڑی روٹی کو چھوٹی روٹی سے بدلنا اچھا نہیں البتہ اگر روٹی کو دوسری روٹی کے برابر سمجھے تو بدلنا درست ہے اگرچہ وزن نہ کرے۔ کہا مالک نے ایک مدزبد اور ایک مدلبن کو دو مدزبد کے بدلے میں لینا درست نہیں کیونکہ اس نے اپنے زبد کی عمدگی لبن کے شریک کرکے برابر کرلی اگر علیحدہ لبن کو بیچتا تو کبھی ایک صاع لبن کے بدلے میں ایک صاع زبد نہ آتی۔ اس قسم کا مسئل اوپر بیان ہوچکا۔ سعید بن مسیب سے محمد بن عبداللہ بن مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے میں اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu DaifSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 31 · Business Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔