سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

کتاب 30 · Suckling

18 روایات · نمبر 1272–1289

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

نمبر 1272کتاب 30، نمبر 1
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُرَاهُ فُلاَنًا ‏"‏ ‏.‏ لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ كَانَ فُلاَنٌ حَيًّا - لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ - دَخَلَ عَلَىَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَةُ ‏"‏ ‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے گھر میں ان کے پاس تھے اتنے میں حضرت عائشہ نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے گھر جانے کی اجازت چاہتا تھا حضرت عائشہ بولیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون شخص ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جانا چاہتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے حضرت حفصہ کے رضاعی چچا کا نام لیا جب حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے سامنے آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں رضاعت حرام کرتی ہے جیسے نسب حرام کرتا ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 1273کتاب 30، نمبر 2
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَىَّ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ ‏.‏ وَقَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ ‏.‏
حضرت عائشہ نے کہا میرا رضاعی چچا میرے پاس آیا اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھے بغیر اجازت نہ دوں گی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے تو اس کو آنے کی اجازت دے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو تو عورت نے دودھ پلایا تھا مرد کا اس سے کیا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے بے شک تیرے پاس آئے گا اور یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب آیت حجاب اتر چکی تھی حضرت عائشہ نے کہا جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 1274کتاب 30، نمبر 3
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَىَّ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَىَّ ‏.‏
حضرت عائشہ نے کہا کہ میرا رضاعی چچا افلح میرے پاس آیا آیت حجاب کے اترنے کے بعد میں نے اس کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس اسے آنے کی اجازت دے دی۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 1275کتاب 30، نمبر 4
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَإِنْ كَانَ مَصَّةً وَاحِدَةً فَهُوَ يُحَرِّمُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس کہتے تھے دو برس کے اندر بچہ اگر ایک دفعہ بھی دودھ چوسے تو رضاعت کی حرمت ثابت ہو گی
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1276کتاب 30، نمبر 5
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلاَمًا وَأَرْضَعَتِ الأُخْرَى جَارِيَةً فَقِيلَ لَهُ هَلْ يَتَزَوَّجُ الْغُلاَمُ الْجَارِيَةَ فَقَالَ لاَ اللِّقَاحُ وَاحِدٌ ‏.‏
عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا اگر ایک شخص کی دو بیبیاں ہوں ان میں سے ایک بی بی ایک لڑکے کو دودھ پلائے اور دوسری بی بی ایک لڑکی کو کیا اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے درست ہے جواب دیا درست نہیں کیونکہ دونوں کا باپ ایک ہی ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1277کتاب 30، نمبر 6
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ رَضَاعَةَ إِلاَّ لِمَنْ أُرْضِعَ فِي الصِّغَرِ وَلاَ رَضَاعَةَ لِكَبِيرٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے رضاعت وہی ہے جو دو برس کے اندر ہو اس کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1278کتاب 30، نمبر 7
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَى أُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَتْ أَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ فَأَرْضَعَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ثَلاَثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْنِي غَيْرَ ثَلاَثِ رَضَعَاتٍ فَلَمْ أَكُنْ أَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ لَمْ تُتِمَّ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ ‏.‏
حضرت عائشہ نے سالم بن عبداللہ کو جب وہ شیر خوار تھے اپنے بہن ام کلثوم کے پاس بھیجا اس لئے کہ دس بار اس کو دودھ پلائی بغیر پردہ کے میرے سامنے آجائیں سالم نے کہا ام کلثوم نے مجھ کو تین بار دودھ پلایا بعد اس کے میں بیمار ہو گیا اس لئے میں حضرت عائشہ کے سامنے نہیں جاتا کیونکہ میں نے ام کلثوم کا دس بار دودھ نہیں پیا تھا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 1279کتاب 30، نمبر 8
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أُخْتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تُرْضِعُهُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَهُوَ صَغِيرٌ يَرْضَعُ فَفَعَلَتْ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ‏.‏
صفیہ بن ابی عبید سے روایت ہے کہ ام المومنین حفصہ نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو ضب وہ شیر خوار تھے اپنی بہن فاطمہ بنت عمر بن خطاب کے پاس بھیجا تاکہ ان کو دس مرتبہ دودھ پلائیں جب وہ بڑے ہو جائیں تو اسن کے سامنے ہوا کریں فاطمہ نے عاصم کو دودھ پلادیا پھر عاصم جب بڑے ہوئے تو حضرت حفصہ ان کے سامنے ہوا کرتیں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1280کتاب 30، نمبر 9
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَتْهُ أَخَوَاتُهَا وَبَنَاتُ أَخِيهَا وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَهُ نِسَاءُ إِخْوَتِهَا ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ سامنے ہوتیں ان لوگوں کے جن کو دودھ پلایا تھا ان کی بہنوں اور بھیتجوں کے اور نہیں سامنے ہوتی تھیں ان لوگوں کے جن کو دودھ پلایا تھا ان کی بھاوجوں نے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1281کتاب 30، نمبر 10
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ كُلُّ مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ قَطْرَةً وَاحِدَةً فَهُوَ يُحَرِّمُ وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّمَا هُوَ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ثُمَّ سَأَلْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ‏.‏
ابراہیم بن عتبہ نے سعید بن مسیب سے پوچھا رضاعت کا حکم سعید نے کہا جو رضاعت دو برس کے اندر ہو اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی اگرچہ ایک قطرہ ہو اور جو دو برس کے بعد اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی بلکہ وہ مثل کھانوں کے ہے ابراہم نے کہا پھر میں نے عروہ بن زبیر سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 1282کتاب 30، نمبر 11
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ لاَ رَضَاعَةَ إِلاَّ مَا كَانَ فِي الْمَهْدِ وَإِلاَّ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ ‏.‏
یحیی بن سعید نے کہا سعید بن مسیب کہتے ہیں رضاعت وہی ہے جو بچپن میں ہو جب بچہ جھولی میں رہتا ہو اور اس رضاعت سے خون اور گوشت بڑھے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 1283کتاب 30، نمبر 12
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ الرَّضَاعَةُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا تُحَرِّمُ وَالرَّضَاعَةُ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ تُحَرِّمُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الرَّضَاعَةُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا إِذَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ تُحَرِّمُ فَأَمَّا مَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لاَ يُحَرِّمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ ‏.‏
ابن شہاب کہتے تھے رضاعت تھوری ہو یا زیادہ حرمت ثابت کر دیتی ہے اور رضاعت مرورں کی طرح سے بھی حرمت ثابت کر دیتی ہے ۔ کہا یحیی نے امام مالک کہتے تھے دو برس کے اندر رضاعت قلیل ہو یا کثیر حرمت ثابت کر دتیی ہے اور دو برس کی رضاعت سے حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ وہ مثل اور کھانوں کے ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 1284کتاب 30، نمبر 13
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَكَانَ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ ‏{‏ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ‏}‏ رُدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوْلاَهُ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَىَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلاَّ بَيْتٌ وَاحِدٌ فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَنْ كَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ وَقُلْنَ لاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلاَّ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَى هَذَا كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ ‏.‏
ابن شہاب سے سوال ہوا کہ بڑھ پن میں کوئی آدمی عورت کو دودھ پئے تو اس کا کیا حکم ہے انہوں نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ خذیفہ بن عتبہ بن ریبعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور جنگ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے بیٹا بنایا تھا سالم کو تو سالم مولیٰ کہتے تھے انہوں بی خذیفہ کے جیسے زید کو بیٹا کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوخذیفہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتجی فاطمہ بنت ولد سے کر دیا تھا جو پہلے ہجرت کرنے والوں میں تھی اور تمام قریش کی ثیبہ عورتوں میں افضل تھی جب اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں اتارا زید بن حارثہ کے حق میں کہ ان کو کے باپو کا نام معلوم نہ ہوتا اپنے مالک کی طرف نسبت کئے جانے تو سہلہ بنت سہیل ابوحذیفہ کی جورو جو بنی عامر بن لوی کی اولاد میں سے تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا بچہ سمجھتے تھے ہم ننگے کھلے ہوتے تھے وہ اندر چلا آتا تھا اب کیا کرنا چاہئیے دوسرا گھر بھی ہمارے پاس نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانچ بار دودھ پلادے تو وہ تیرا محرم ہوجائے گا ۔ پھر حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور سالم کو اپنا رضائی بیٹا سمجھنے لگی حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی حدیث پر عمل کرتیں تھی اور جس مرد کو چاہتیں کہ اپنے پاس آیا جایا کرے تو اپنی بہن ام کلثوم کو حکم کرتیں اور اپنی بھتیجیوں کو کہ اس شخص کو اپنا دودھ پلادیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیبیاں اس کا انکار کرتی تھیں کہ بڑے پن میں کوئی دودھ پی کر ان کا محرم بن جائے اور ان کے پاس آیا جایا کرے اور وہ یہ کہتی تھیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قسم اللہ کی ایس رضاعت کی وجہ سے ہمارا کوئی محرم نہیں ہوسکتا۔
ماخذ میں درج درجات
  • HasanSalim al-Hilali
نمبر 1285کتاب 30، نمبر 14
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَاءِ يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي كَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ وَكُنْتُ أَطَؤُهَا فَعَمَدَتِ امْرَأَتِي إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ دُونَكَ فَقَدْ وَاللَّهِ أَرْضَعْتُهَا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَوْجِعْهَا وَأْتِ جَارِيتَكَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا میں ان کے ساتھ تھا دارالقضا کے پا پوچھنے لگا بڑے آدمی کی رضاعت کا کیا حکم ہے عبداللہ بن عمر نے کہا ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا بولا میری ایک لونڈی تھی اس سے میں صحبت کیا کرتا تھا میری جورو نے قصدا اسے دودھ پلایا دیا جب میں اس کے پاس جانے لگا بولی سن لے قسم اللہ کی میں اس کو دودھ پلا چکی ہوں حضرت عمر نے فرمایا اپنی بی بی کو سزادے اور اپنی لونڈی سے صحبت کر رضاعت چھوٹے پن میں ہوتی ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1286کتاب 30، نمبر 15
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ فَقَالَ إِنِّي مَصِصْتُ عَنِ امْرَأَتِي، مِنْ ثَدْيِهَا لَبَنًا فَذَهَبَ فِي بَطْنِي فَقَالَ أَبُو مُوسَى لاَ أُرَاهَا إِلاَّ قَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ انْظُرْ مَاذَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَمَاذَا تَقُولُ أَنْتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لاَ رَضَاعَةَ إِلاَّ مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوموسیٰ اشعری سے کہا میں اپنی عورت کا دودھ چھاتی سے چوس رہا تھا وہ میرے پیٹ میں چلا گیا ابوموسیٰ نے کہا وہ میرے نزدیک وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی عبداللہ بن مسعود نے کہا دیکھو کیا مسئلہ بتاتے ہو اس شخص کو ابوموسیٰ بولے اچھا تم کیا کہتے ہو عبداللہ بن مسعود نے کہا رضاعت وہ ہے جو دو برس کے اندر ہو جب ابومویس نے کہا مجھ سے کچھ مت پوچھا کرو جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1287کتاب 30، نمبر 16
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ سے روای تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت سے حرام ہو جاتا ہے جو نسب سے حرام ہو جاتا ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 1288کتاب 30، نمبر 17
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
جذامہ بنت وہب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے قصد کیا تھا کہ منع کردوں جماع سے جن تک عورت اپنے بچے کو دودھ پلائے پھر مجھے معلوم ہوا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کیا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو نقصان نہیں ہوتا۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 1289کتاب 30، نمبر 18
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏
حضرت عائشہ نے فرمایا پہلے قرآن شریف میں یہ اترا تھا کہ دس بارہ دودھ پلائے تو حرمت ثابت ہوتی ہے پھر منسوخ ہو گیا اور پانچ بار پلانا ٹھہرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور لوگ اس کو قرآن پڑھتے تھے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔