سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 203

نمبر 203کتاب 3، نمبر 36
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَتَشَهَّدُ فَيَقُولُ بِاسْمِ اللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ شَهِدْتُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ شَهِدْتُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ يَقُولُ هَذَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ وَيَدْعُو إِذَا قَضَى تَشَهُّدَهُ بِمَا بَدَا لَهُ فَإِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلاَتِهِ تَشَهَّدَ كَذَلِكَ أَيْضًا إِلاَّ أَنَّهُ يُقَدِّمُ التَّشَهُّدَ ثُمَّ يَدْعُو بِمَا بَدَا لَهُ فَإِذَا قَضَى تَشَهُّدَهُ وَأَرَادَ أَنْ يُسَلِّمَ قَالَ السَّلاَمُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ‏.‏ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ يَرُدُّ عَلَى الإِمَامِ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ أَحَدٌ عَنْ يَسَارِهِ رَدَّ عَلَيْهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تشہد پڑھتے تھے اس طرح بسم اللہ التحیات لللہ کہتے تھے یہ پہلی دو رکعتوں کے بعد مانگتے تھے بعد تشہد کے جو کچھ جی چاہتا تھا پھر جب اخیر قعدہ کرتے اور اسی طرح پڑھتے مگر پہلے تشہد پڑھتے پھر دعا مانگتے جو چاہتے اور بعد تشہد کے جب سلام پھیرنے لگتے تو کہتے السلام علی البنی ورحمة اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد الصالحین السلام علیکم داہنی طرف کہتے پھر امام کے سلام کا جواب دیتے پھر اگر کوئی بائیں طرف والا ان کو سلام کرتا تو اس کو بھی جواب دیتے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 3 · Prayer

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔