سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1232

نمبر 1232کتاب 29، نمبر 29
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ قَبِيلَةً أَوِ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ الطَّلاَقُ وَكُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ وَمَالُهُ صَدَقَةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَحَنِثَ قَالَ أَمَّا نِسَاؤُهُ فَطَلاَقٌ كَمَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهُ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا أَوْ قَبِيلَةً أَوْ أَرْضًا أَوْ نَحْوَ هَذَا فَلَيْسَ يَلْزَمُهُ ذَلِكَ وَلْيَتَزَوَّجْ مَا شَاءَ وَأَمَّا مَالُهُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِثُلُثِهِ ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود اور سالم بن عبداللہ اور قاسم بن محمد اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جو کوئی شخص قسم کھا لے کسی عورت کی طلاق پر نکاح سے پہلے پھر نکاح کے بعد وہ قسم ٹوٹے تو طلاق پر جائے گی ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کہے میں جس عورت سے نکاح کروں اس عورت کو طلاق ہے اور کسی قبیلہ خاص اور عورت معین کا ذکر نہیں کیا تو یہ کلام لغو ہو جائے گا ۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کہے اگر میں فلاں کام نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے اور جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اور اس کا مال اللہ کی راہ میں صدقہ ہے پھر اس نے وہ کام نہ کیا تو اس کی عورت پر طلاق پڑ جائے گی مگر یہ جو کہا کہ جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اگر کسی عورت معین یا قبیلہ معین کا نام نہ لیا تو لغو ہو جائے گی اور مال میں سے تلائی صدقہ دینا ہوگا۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 29 · Divorce

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔