سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1175

نمبر 1175کتاب 29، نمبر 4
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ تَظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ لَهُ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ ‏{‏فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ‏}‏‏.‏ ‏{‏فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا‏}‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنِ امْرَأَتِهِ فِي مَجَالِسَ مُتَفَرِّقَةٍ قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ تَظَاهَرَ ثُمَّ كَفَّرَ ثُمَّ تَظَاهَرَ بَعْدَ أَنْ يُكَفِّرَ فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ أَيْضًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ تَظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَسَّهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ وَيَكُفُّ عَنْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالظِّهَارُ مِنْ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَالنَّسَبِ سَوَاءٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ ظِهَارٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا‏}‏‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ تَفْسِيرَ ذَلِكَ أَنْ يَتَظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ يُجْمِعَ عَلَى إِمْسَاكِهَا وَإِصَابَتِهَا فَإِنْ أَجْمَعَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ وَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُجْمِعْ بَعْدَ تَظَاهُرِهِ مِنْهَا عَلَى إِمْسَاكِهَا وَإِصَابَتِهَا فَلاَ كَفَّارَةَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الْمُتَظَاهِرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَظَاهَرُ مِنْ أَمَتِهِ إِنَّهُ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُصِيبَهَا فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ الظِّهَارِ قَبْلَ أَنْ يَطَأَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَدْخُلُ عَلَى الرَّجُلِ إِيلاَءٌ فِي تَظَاهُرِهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مُضَارًّا لاَ يُرِيدُ أَنْ يَفِيءَ مِنْ تَظَاهُرِهِ ‏
عروہ بن زبیر نے کہا جو شخص ایک ہی دفعہ چار عورتوں سے ظہار کرے تو اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا ۔ ربیعہ بن عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے میرے نزدیک بھی ایسا ہی حکم ہے ۔ کہا مالک نے ظہار کے کفارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میں سے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں جماع سے پہلے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا ۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کئی مرتبہ کئی مجلسوں میں ظہار کرے اس پر ایک کفارہ لازم آئے گا البتہ اگر ایک مرتبہ ظہار کر کے کفارہ ادا کر دیا پھر دوبارہ ظہار کیا تو پھر کفارہ لازم آئے گا کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے عورت سے جماع کیا تو اس پر ایک ہی کفارہ لازم آئے گا اب جب تک کفارہ نہ دے عورت سے علیحدہ رہے اور اللہ سے استغفار کرے ۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔ کہا مالک نے ظہار میں محرم رضاعی یا محرم نسبی سے تشبیہ دینا دونوں برابر ہیں ۔ کہا مالک نے عورتوں پر ظہار کا کفارہ نہیں ہے ۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا فرمایا ہے جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں پھر لوٹ کر دہی بارت کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہار کے بعد پھر عورت کو رکھنا اور اس سے صحبت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا اور جو ظہار کے بعد عورت کو طلاق دے دے اور نہ رکھے تو کچھ کفارہ نہیں اگر طلاق کے بعد پھر اس سے نکاح کرے تو صحبت نہ کرے جب تک ظہار کا کفارہ نہ دے ۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے پھر اس سے صحبت کرنا چاہے تو درست نہیں جب تک کفارہ نہ دے۔ کہا مالک نے ظہار سے ایلاء نہیں ہوتا البتہ جب ظہار سے یہ نیت ہو کہ کفارہ نہ دیں گے اور عورت کو ضرر پہنچائیں گے تو ایلاء ہو جائے گا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 29 · Divorce

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔