سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1138

نمبر 1138کتاب 28، نمبر 48
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَتْ، تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الإِسْلاَمِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَتْهُ إِلَى الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ حَتَّى بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الإِسْلاَمُ فَلَمْ تُسْلِمْ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَلاَ تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ‏}‏‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ام حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے ام حکیم بھی وہاں چلی گئیں اور ان کو دین اسلام کی طرف بلایا وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم شریف پر چادر نہ تھی پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے ۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہو جائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہو جائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے
ماخذ میں درج درجات
  • DaifSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 28 · Marriage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔