سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

کتاب 26 · The 'Aqiqa

7 روایات · نمبر 1067–1073

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

نمبر 1067کتاب 26، نمبر 1
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ أُحِبُّ الْعُقُوقَ ‏"‏ ‏.‏ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاِسْمَ وَقَالَ ‏"‏ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
بنی ضمرہ کے ایک شخص سے روایت ہے اس نے اپنے باپ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقے کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق کو پسند نہیں کرتا یعنی اس نام کو ناپسند کیا اور فرمایا جس شخص کا بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کرے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiSalim al-Hilali
نمبر 1068کتاب 26، نمبر 2
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَعَرَ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَزَيْنَبَ وَأُمِّ كُلْثُومٍ فَتَصَدَّقَتْ بِزِنَةِ ذَلِكَ فِضَّةً ‏.‏
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ نے حضرت حسن حضرت حسین اور زینب اور ام کلثوم کے بال تول کر ان کے برابر چاندی صدقہ کی ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 1069کتاب 26، نمبر 3
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّهُ قَالَ وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَعَرَ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَتَصَدَّقَتْ بِزِنَتِهِ فِضَّةً ‏.‏
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ نے حسن اور حسین کے بال تول کر ان کے برابر چاندی صدقہ کی ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 1070کتاب 26، نمبر 4
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، لَمْ يَكُنْ يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ عَقِيقَةً إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهَا وَكَانَ يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ عَنِ الذُّكُورِ وَالإِنَاثِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جو کوئی ان کے گھر والوں میں سے عقیقے کے بارے کہتا تو وہ دیتے اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ایک ایک بکری (عقیقے میں) ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 1071کتاب 26، نمبر 5
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْتَحِبُّ الْعَقِيقَةَ، وَلَوْ بِعُصْفُورٍ ‏.‏
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ عقیقہ بہتر ہے اگرچہ ایک چڑیا ہی ہو ۔ حضرت حسن اور حسین کا عقیقہ ہوا تھا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 1072کتاب 26، نمبر 6
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ عُقَّ عَنْ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، ابْنَىْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • HasanSalim al-Hilali
نمبر 1073کتاب 26، نمبر 7
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَعُقُّ عَنْ بَنِيهِ الذُّكُورِ، وَالإِنَاثِ، بِشَاةٍ شَاةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ أَنَّ مَنْ عَقَّ فَإِنَّمَا يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ الذُّكُورِ وَالإِنَاثِ وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا وَهِيَ مِنَ الأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا لاَ يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ وَلاَ عَجْفَاءُ وَلاَ مَكْسُورَةٌ وَلاَ مَرِيضَةٌ وَلاَ يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَىْءٌ وَلاَ جِلْدُهَا وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا وَلاَ يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَىْءٍ مِنْ دَمِهَا ‏.‏
عروہ بن زبیر اپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو خواہ لڑکی ایک ایک بکری کرتے تھے عقیقے میں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔