سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 977

نمبر 977کتاب 21، نمبر 19
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الأَنْفَالِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْفَرَسُ مِنَ النَّفَلِ وَالسَّلَبُ مِنَ النَّفَلِ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ عَادَ الرَّجُلُ لِمَسْأَلَتِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَلِكَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ الرَّجُلُ الأَنْفَالُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا هِيَ قَالَ الْقَاسِمُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يُحْرِجَهُ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ صَبِيغٍ الَّذِي ضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ قَتَلَ قَتِيلاً مِنَ الْعَدُوِّ أَيَكُونُ لَهُ سَلَبُهُ بِغَيْرِ إِذْنِ الإِمَامِ قَالَ لاَ يَكُونُ ذَلِكَ لأَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِ الإِمَامِ وَلاَ يَكُونُ ذَلِكَ مِنَ الإِمَامِ إِلاَّ عَلَى وَجْهِ الاِجْتِهَادِ وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ إِلاَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ؛ "سنا میں نے ایک شخص کو ، عبداللہ بن عباس سے نفل کے معنی پوچھتا تھا " ، ابن عباس نے کہا کہ" گھوڑا اور ہتھیار نفل میں داخل ہیں۔ پھر اس شخص نے یہی پوچھا، پھر ابن عباس نے یہی جواب دیا۔ پھر اس شخص نے کہا میں وہ انفال پوچھتا ہوں جن کا ذکر، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ قاسم کہتے ہیں کہ وہ برابر پوچھے گیا، یہاں تک کہ تنگ ہونے لگے عبداللہ بن عباس، اور کہا انہوں نے تم جانتے ہو اس شخص کی مثال؛ صبیغ کی سی ہے جس کو حضرت عمر بن خطاب نے مارا تھا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 21 · Jihad

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔