سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 860

نمبر 860کتاب 20، نمبر 156
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامٍ قَابِلٍ ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا فَإِنْ أَدْرَكَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْىُ وَيُهِلاَّنِ مِنْ حَيْثُ أَهَلاَّ بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ ‏.‏ وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ يُهْدِيَانِ جَمِيعًا بَدَنَةً بَدَنَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي الْحَجِّ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَدْفَعَ مِنْ عَرَفَةَ وَيَرْمِيَ الْجَمْرَةَ إِنَّهُ يَجِبُ عَلَيْهِ الْهَدْىُ وَحَجُّ قَابِلٍ قَالَ فَإِنْ كَانَتْ إِصَابَتُهُ أَهْلَهُ بَعْدَ رَمْىِ الْجَمْرَةِ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَمِرَ وَيُهْدِيَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالَّذِي يُفْسِدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَجِبَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْهَدْىُ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ الْتِقَاءُ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاءٌ دَافِقٌ ‏.‏ قَالَ وَيُوجِبُ ذَلِكَ أَيْضًا الْمَاءُ الدَّافِقُ إِذَا كَانَ مِنْ مُبَاشَرَةٍ فَأَمَّا رَجُلٌ ذَكَرَ شَيْئًا حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ مَاءٌ دَافِقٌ فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ ذَلِكَ مَاءٌ دَافِقٌ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي الْقُبْلَةِ إِلاَّ الْهَدْىُ وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ مُحْرِمَةٌ مِرَارًا فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ وَهِيَ لَهُ فِي ذَلِكَ مُطَاوِعَةٌ إِلاَّ الْهَدْىُ وَحَجُّ قَابِلٍ إِنْ أَصَابَهَا فِي الْحَجِّ وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا فِي الْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا عَلَيْهَا قَضَاءُ الْعُمْرَةِ الَّتِي أَفْسَدَتْ وَالْهَدْىُ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے تھے لوگوں سے تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے، احرام کی حالت میں تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لئے بعض لوگوں کے پاس، بعض لوگوں نے کہا کہ میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی کی جائے، سعید نے کہا دونوں حج کرنے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کر دیا ہے جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فارغ نہ ہوں حج سے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 20 · Hajj

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔