سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 743

نمبر 743کتاب 20، نمبر 39
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، دَخَلَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ يَنْجَعُ بَكَرَاتٍ لَهُ دَقِيقًا وَخَبَطًا فَقَالَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ‏.‏ فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى يَدَيْهِ أَثَرُ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ - فَمَا أَنْسَى أَثَرَ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ عَلَى ذِرَاعَيْهِ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ أَنْتَ تَنْهَى عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ ذَلِكَ رَأْيِي ‏.‏ فَخَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا وَهُوَ يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهِ شَيْئًا وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ وَيَحِلُّ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ ‏.‏
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ مقداد بن الاسود آئے حضرت علی کے پاس اور وہ پلا رہے تھے اپنے اونٹ کے بچوں کو گھلا ہو آٹا اور چارہ پانی میں، تو کہا مقداد نے یہاں عثمان بن عفان منع کرتے ہیں قران سے درمیان حج اور عمرہ کے پس نکلے علی اور ان کے ہاتھوں میں آٹے کے نشان تھے سو میں اب تک اس آٹے کے نشانوں کو جو ان کے ہاتھ پر تھے نہیں بھولا اور گئے حضرت عثماں بن عفان کے پاس اور کہا کیا تم منع کرتے ہو قران سے درمیان حج اور عمرہ کے انہوں نے کہا ہاں میرے رائے یہی ہے تو حضرت علی غصے سے باہر نکلے کہتے تھے لبیک اللہم البیک بحجة وعمرۃ ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 20 · Hajj

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔