نمبر 714کتاب 20، نمبر 10
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا الثَّوْبُ الْمَصْبُوغُ يَا طَلْحَةُ فَقَالَ طَلْحَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا هُوَ مَدَرٌ . فَقَالَ عُمَرُ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ أَئِمَّةٌ يَقْتَدِي بِكُمُ النَّاسُ فَلَوْ أَنَّ رَجُلاً جَاهِلاً رَأَى هَذَا الثَّوْبَ لَقَالَ إِنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كَانَ يَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُصَبَّغَةَ فِي الإِحْرَامِ فَلاَ تَلْبَسُوا أَيُّهَا الرَّهْطُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ .
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اسلم سے جو مولیٰ تھے عمر بن خطاب کے حدیث بیان کرتے تھے عبداللہ بن عمر سے کہ عمر بن خطاب نے دیکھا طلحہ بن عبیداللہ کو رنگین کپڑے پہنے ہوئے احرام میں تو پوچھا حضرت عمر نے کیا یہ کپڑا رنگا ہوا ہے طلحہ، طلحہ نے کہا اے امیر المومنین یہ مٹی کا رنگ ہے حضرت عمر نے کہا تم لوگ پیشوا ہو لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں اگر کوئی جاہل جو اس رنگ سے واقف نہ ہو اس کپڑے کو دیکھے تو یہی کہے گا کہ طلحہ بن عبیداللہ رنگین کپڑے پہنتے تھے احرام میں، تو نہ پہنو تم لوگ ان رنگین کپڑوں میں سے کچھ ۔
ماخذ میں درج درجات
- Mauquf SahihSalim al-Hilali