سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

کتاب 19 · I'tikaf in Ramadan

14 روایات · نمبر 690–704

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

نمبر 690کتاب 19، نمبر 1
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَىَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو جھکا دیتے سر اپنا میری طرف سو میں کنگھی کر دیتی اور گھر میں نہ آتے مگر حاجت ضروری کے واسطے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 691کتاب 19، نمبر 2
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، كَانَتْ إِذَا اعْتَكَفَتْ لاَ تَسْأَلُ عَنِ الْمَرِيضِ إِلاَّ وَهِيَ تَمْشِي لاَ تَقِفُ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عائشہ جب اعتکاف کرتیں تو بیمار پرسی نہ کرتیں مگر چلتے چلتے، ٹھہرتی نہیں تھیں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 692کتاب 19، نمبر 3
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الرَّجُلِ، يَعْتَكِفُ هَلْ يَدْخُلُ لِحَاجَتِهِ تَحْتَ سَقْفٍ فَقَالَ نَعَمْ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ أَنَّهُ لاَ يُكْرَهُ الاِعْتِكَافُ فِي كُلِّ مَسْجِدٍ يُجَمَّعُ فِيهِ وَلاَ أُرَاهُ كُرِهَ الاِعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ الَّتِي لاَ يُجَمَّعُ فِيهَا إِلاَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَخْرُجَ الْمُعْتَكِفُ مِنْ مَسْجِدِهِ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ أَوْ يَدَعَهَا فَإِنْ كَانَ مَسْجِدًا لاَ يُجَمَّعُ فِيهِ الْجُمُعَةُ وَلاَ يَجِبُ عَلَى صَاحِبِهِ إِتْيَانُ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدٍ سِوَاهُ فَإِنِّي لاَ أَرَى بَأْسًا بِالاِعْتِكَافِ فِيهِ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ‏{‏وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ‏}‏ فَعَمَّ اللَّهُ الْمَسَاجِدَ كُلَّهَا وَلَمْ يَخُصَّ شَيْئًا مِنْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَمِنْ هُنَالِكَ جَازَ لَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْمَسَاجِدِ الَّتِي لاَ يُجَمَّعُ فِيهَا الْجُمُعَةُ إِذَا كَانَ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ إِلَى الْمَسْجِدِ الَّذِي تُجَمَّعُ فِيهِ الْجُمُعَةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَبِيتُ الْمُعْتَكِفُ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ خِبَاؤُهُ فِي رَحَبَةٍ مِنْ رِحَابِ الْمَسْجِدِ وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ الْمُعْتَكِفَ يَضْرِبُ بِنَاءً يَبِيتُ فِيهِ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي رَحَبَةٍ مِنْ رِحَابِ الْمَسْجِدِ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لاَ يَبِيتُ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ قَوْلُ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اعْتَكَفَ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ ‏.‏ وَلاَ يَعْتَكِفُ فَوْقَ ظَهْرِ الْمَسْجِدِ وَلاَ فِي الْمَنَارِ يَعْنِي الصَّوْمَعَةَ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ يَدْخُلُ الْمُعْتَكِفُ الْمَكَانَ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهَا حَتَّى يَسْتَقْبِلَ بِاعْتِكَافِهِ أَوَّلَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهَا وَالْمُعْتَكِفُ مُشْتَغِلٌ بِاعْتِكَافِهِ لاَ يَعْرِضُ لِغَيْرِهِ مِمَّا يَشْتَغِلُ بِهِ مِنَ التِّجَارَاتِ أَوْ غَيْرِهَا وَلاَ بَأْسَ بِأَنْ يَأْمُرَ الْمُعْتَكِفُ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ بِضَيْعَتِهِ وَمَصْلَحَةِ أَهْلِهِ وَأَنْ يَأْمُرَ بِبَيْعِ مَالِهِ أَوْ بِشَىْءٍ لاَ يَشْغَلُهُ فِي نَفْسِهِ فَلاَ بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ خَفِيفًا أَنْ يَأْمُرَ بِذَلِكَ مَنْ يَكْفِيهِ إِيَّاهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَذْكُرُ فِي الاِعْتِكَافِ شَرْطًا وَإِنَّمَا الاِعْتِكَافُ عَمَلٌ مِنَ الأَعْمَالِ مِثْلُ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامِ وَالْحَجِّ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الأَعْمَالِ مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَرِيضَةً أَوْ نَافِلَةً فَمَنْ دَخَلَ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا يَعْمَلُ بِمَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ فِي ذَلِكَ غَيْرَ مَا مَضَى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ لاَ مِنْ شَرْطٍ يَشْتَرِطُهُ وَلاَ يَبْتَدِعُهُ وَقَدِ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَرَفَ الْمُسْلِمُونَ سُنَّةَ الاِعْتِكَافِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالاِعْتِكَافَ وَالْجِوَارُ سَوَاءٌ وَالاِعْتِكَافُ لِلْقَرَوِيِّ وَالْبَدَوِيِّ سَوَاءٌ ‏.‏
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب سے کہ معتکف کو پٹے ہوئے مکان میں حاجت ضروری کو جانا درست ہے بولے ہاں درست ہے کچھ حرج نہیں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 693کتاب 19، نمبر 4
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَنَافِعًا، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالاَ لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ بِصِيَامٍ بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ‏}‏ فَإِنَّمَا ذَكَرَ اللَّهُ الاِعْتِكَافَ مَعَ الصِّيَامِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ بِصِيَامٍ ‏.‏
قاسم بن محمد اور نافع جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عمر کے دونوں کہتے تھے کہ اعتکاف بغیر روزے کے درست نہیں ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا اپنی کتاب میں کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاری معلوم ہونے لگے سیاہ دھاری سے فجر کی تمام کرو روزوں کو رات تک اور نہ چمٹو اپنی عورتوں سے جب تم اعتکاف سے ہو مسجدوں میں تو ذکر کیا اللہ جل جلالہ نے اعتکاف کا روزے کے ساتھ ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu DaifSalim al-Hilali
نمبر 695کتاب 19، نمبر 6
حَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ وَجَدَ أَخْبِيَةً خِبَاءَ عَائِشَةَ وَخِبَاءَ حَفْصَةَ وَخِبَاءَ زَيْنَبَ فَلَمَّا رَآهَا سَأَلَ عَنْهَا فَقِيلَ لَهُ هَذَا خِبَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا اعتکاف کا جب آئے آپ اس جگہ جہاں اعتکاف کرنا چاہتے تھے پائے آپ نے کئی خیمے ایک خیمہ عائشہ کا اور ایک خیمہ حفصہ کا اور ایک خیمہ زینب کا تو پوچھا آپ نے یہ کن کے خیمے ہیں لوگوں نے کہا عائشہ اور حفصہ اور زینب رضی اللہ عنھن کے ۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم نیکی کا گمان کرتے ہو ان عورتوں کے ساتھ، پھر لوٹ آئے آپ اور اعتکاف نہ کیا پھر شوال کے دس دنوں میں اعتکاف کیا۔
ماخذ میں درج درجات
  • Shadh, SahihSalim al-Hilali
نمبر 696کتاب 19، نمبر 7
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ فِي الْبُيُوتِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مَعَ جَنَازَةِ أَبَوَيْهِ وَلاَ مَعَ غَيْرِهَا ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت ضروری کے لئے گھروں میں آئے تھے اعتکاف کی حالت میں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 697کتاب 19، نمبر 8
حَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْوُسُطَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنْ صُبْحِهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ قَالَ ‏ "‏ مَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صُبْحِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأُمْطِرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ - قَالَ أَبُو سَعِيدٍ - فَأَبْصَرَتْ عَيْنَاىَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے رمضان کے درمیانی عشرے کا تو ایک سال اعتکاف کیا جب اکیسویں رات آئی جس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے باہر آیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو چاہیے اور دس دن تک اخیر میں اعتکاف کرے میں نے شب قدر کو معلوم کیا تھا پھر میں بھلا دیا گیا میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ میں شب قدر کی صبح کو سجدہ کرتا ہوں کیچڑ اور پانی میں پس ڈھونڈو تم اس کو اخیر دس میں سے ہر طاق رات میں ابوسعید خدری نے کہا کہ اسی رات پانی برسا اور مسجد کی چھت پتوں اور شاخوں کی تھی تو ٹپکی مسجد ابوسعید نے کہا میری دونوں آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پیشانی اور ناک مبارک پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مٹی اور پانی کا نشان تھا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 698کتاب 19، نمبر 9
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی اخیر دس راتوں میں
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 699کتاب 19، نمبر 10
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی آخر سات راتوں میں
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 700کتاب 19، نمبر 11
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَاسِعُ الدَّارِ فَمُرْنِي لَيْلَةً أَنْزِلُ لَهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏
ابو النصر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن انیس جہنی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا گھر دور ہے تو ایک رات مقرر کیجئے کہ اس رات میں اس مسجد میں رہوں اور عبادت کروں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسویں شب کو رمضان میں
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 701کتاب 19، نمبر 12
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي رَمَضَانَ حَتَّى تَلاَحَى رَجُلاَنِ فَرُفِعَتْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اور فرمایا کہ مجھے شب قدر معلوم ہوگئی تھی مگر دو آدمیوں نے غل مچایا تو میں بھول گیا پس ڈھونڈو اس کو اکیسویں تئیسویں ، اور پچیسویں شب میں یا انتیسویں اور ستائیسویں میں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 702کتاب 19، نمبر 13
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 703کتاب 19، نمبر 14
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَنْ، يَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لاَ يَبْلُغُوا مِنَ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ چند صحابہ نے شب قدر کو دیکھا خواب میں رمضان کی اخیر سات راتوں میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں دیکھتا ہوں کہ خواب تمہارا موافق ہوا میرے خواب کے رمضان کی اخیر سات راتوں میں سو جو کوئی تم میں سے شب قدر کو ڈھونڈنا چاہے تو ڈھونڈے اخیر کی سات راتوں میں ۔ امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک معتبر شخص سے اہل علم میں سے کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائیں گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے پس دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شب قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے ۔ امام مالک کو پہنچا سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص حاضر ہو عشاء کی جماعت میں شب قدر کو تو اس نے ثواب شب قدر کا حاصل کر لیا
ماخذ میں درج درجات
  • DaifSalim al-Hilali
نمبر 704کتاب 19، نمبر 15
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهِ مِنْهَا ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu DaifSalim al-Hilali

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔