سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 639

نمبر 639کتاب 18، نمبر 10
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ‏.‏ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ‏.‏ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص بولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے دروازہ پر اور میں سن رہی تھی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہو جاتی ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں روزہ کی نیت سے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں بھی جنبی ہوتا ہوں اور صبح ہو جاتی ہے روزہ کی نیت سے تو میں غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں بولا وہ شخص یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جیسے تھوڑی ہیں اللہ جل جلالہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے اور پچھلے گناہ سب بخش دیئے تو غصے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں امید رکھتا ہوں کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ جاننے والا پرہیز گاری کی باتوں کو میں ہوں گا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 18 · Fasting

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔