سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 601

نمبر 601کتاب 17، نمبر 24
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ فَقَالُوا أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ وَلاَ تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ تَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلاَ تَأْخُذُهَا وَلاَ تَأْخُذُ الأَكُولَةَ وَلاَ الرُّبَّى وَلاَ الْمَاخِضَ وَلاَ فَحْلَ الْغَنَمِ وَتَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْغَنَمِ وَخِيَارِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالسَّخْلَةُ الصَّغِيرَةُ حِينَ تُنْتَجُ ‏.‏ وَالرُّبَّى الَّتِي قَدْ وَضَعَتْ فَهِيَ تُرَبِّي وَلَدَهَا ‏.‏ وَالْمَاخِضُ هِيَ الْحَامِلُ ‏.‏ وَالأَكُولَةُ هِيَ شَاةُ اللَّحْمِ الَّتِي تُسَمَّنُ لِتُؤْكَلَ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْغَنَمُ لاَ تَجِبُ فِيهَا الصَّدَقَةُ فَتَوَالَدُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهَا الْمُصَدِّقُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ فَتَبْلُغُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ بِوِلاَدَتِهَا قَالَ مَالِكٌ إِذَا بَلَغَتِ الْغَنَمُ بِأَوْلاَدِهَا مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ فَعَلَيْهِ فِيهَا الصَّدَقَةُ وَذَلِكَ أَنَّ وِلاَدَةَ الْغَنَمِ مِنْهَا وَذَلِكَ مُخَالِفٌ لِمَا أُفِيدَ مِنْهَا بِاشْتِرَاءٍ أَوْ هِبَةٍ أَوْ مِيرَاثٍ وَمِثْلُ ذَلِكَ الْعَرْضُ لاَ يَبْلُغُ ثَمَنُهُ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ ثُمَّ يَبِيعُهُ صَاحِبُهُ فَيَبْلُغُ بِرِبْحِهِ مَا تَجِبُ فِيهِ الصَّدَقَةُ فَيُصَدِّقُ رِبْحَهُ مَعَ رَأْسِ الْمَالِ وَلَوْ كَانَ رِبْحُهُ فَائِدَةً أَوْ مِيرَاثًا لَمْ تَجِبْ فِيهِ الصَّدَقَةُ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهُ أَوْ وَرِثَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَغِذَاءُ الْغَنَمِ مِنْهَا كَمَا رِبْحُ الْمَالِ مِنْهُ غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ يَخْتَلِفُ فِي وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهِ مَالاً تَرَكَ مَالَهُ الَّذِي أَفَادَ فَلَمْ يُزَكِّهِ مَعَ مَالِهِ الأَوَّلِ حِينَ يُزَكِّيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَى الْفَائِدَةِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا وَلَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ غَنَمٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْ إِبِلٌ تَجِبُ فِي كُلِّ صِنْفٍ مِنْهَا الصَّدَقَةُ ثُمَّ أَفَادَ إِلَيْهَا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً أَوْ شَاةً صَدَّقَهَا مَعَ صِنْفِ مَا أَفَادَ مِنْ ذَلِكَ حِينَ يُصَدِّقُهُ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ الصِّنْفِ الَّذِي أَفَادَ نِصَابُ مَاشِيَةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
سفیان بن عبداللہ کو عمر بن خطاب نے متصدق ( یعنی زکوۃ وصول کرنے والا ) کرکے بھیجا تو وہ بکریوں میں بچوں کو بھی شمار کرتے تھے لوگوں نے کہا تم بچوں کو شمار کرتے ہیں لیکن بچہ لیتے نہیں ہو تو جب آئے وہ عمر بن خطاب کے پاس بیان کیا ان سے یہ امر تو کہا حضرت عمر نے ہاں ہم گنتے ہیں بچوں کو بلکہ اس بچے کو جس کو چرواہا اٹھا کر چلتا ہے لیکن نہیں لیتے اس کو نہ موٹی بکری کو جو کھانے کے واسطے موٹی کی جائے اور نہ اس بکری کو جو اپنے بچے کو پالتی ہو اور نہ حاملہ کو اور نہ نر کو اور لیتے ہیں ہم ایک سال یا دوسال کی بکری ہو جو متوسط ہے نہ بچہ ہے نہ بوڑھی ہے نہ بہت عمدہ ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf HasanSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 17 · Zakat

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔