سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 599

نمبر 599کتاب 17، نمبر 22
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الصَّدَقَةِ قَالَ فَوَجَدْتُ فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ كِتَابُ الصَّدَقَةِ فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنِ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ مِنَ الإِبِلِ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ ثَلاَثُ شِيَاهٍ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلاَ يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلاَ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ إِلاَّ مَا شَاءَ الْمُصَّدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَفِي الرِّقَةِ إِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ أَوَاقٍ رُبُعُ الْعُشْرِ ‏.‏
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل میں چرتی ہوں جب چالیس تک پہنچ جائیں ایک بکری زکوة کی لازم ہوگی اس سے زیادہ میں تین سو بکریوں تک تین بکریاں بعد اس کے ہر سینکڑے میں ایک بکری دینا ہوگی اور زکوة میں بکرا نہ لیا جائے گا اسی طرح بوڑھے اور عیب دار مگر جب زکوۃ لینے والے کی رائے میں مناسب ہو اور جد اجدا اموال ایک نہ کئے جائیں گے اسی طرح ایک مال جدا جدا نہ کیا جائے گا زکوة کے خوف سے اور جو دو آدمی شریک ہوں تو وہ آپس میں رجوع کر لیں برابر کا حصہ لگا کر اور چاندی میں جب پانچ اوقیہ ہو تو چالیسواں حصہ لازم آئے گا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 17 · Zakat

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔