سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 574

نمبر 574کتاب 16، نمبر 55
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ‏:‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ ‏"‏ ‏.‏
ابوقتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا ایک جنازہ تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستریخ ہے یا مستراح منہ، صحابہ نے پوچھا مستریح کسے کہتے ہیں اور مستراح منہ، کسے کہتے ہیں فرمایا بندہ مومنی مستریح ہے یعنی جب مر جاتا ہے تو دنیا کی تکلیفوں اور اذیتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں راحت پاتا ہے اور بندہ مستراح منہ ہے جب وہ مر جاتا ہے تو لوگوں کو بستیوں کو اور درختوں کو اور جانوروں کو اس سے راحت ہوتی ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 16 · Burials

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔