سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 546

نمبر 546کتاب 16، نمبر 27
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ وَصَلَّى النَّاسُ عَلَيْهِ أَفْذَاذًا لاَ يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ ‏.‏ فَقَالَ نَاسٌ يُدْفَنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُونَ يُدْفَنُ بِالْبَقِيعِ ‏.‏ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا دُفِنَ نَبِيٌّ قَطُّ إِلاَّ فِي مَكَانِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَحُفِرَ لَهُ فِيهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُسْلِهِ أَرَادُوا نَزْعَ قَمِيصِهِ فَسَمِعُوا صَوْتًا يَقُولُ لاَ تَنْزِعُوا الْقَمِيصَ فَلَمْ يُنْزَعِ الْقَمِيصُ وَغُسِّلَ وَهُوَ عَلَيْهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جنازہ کی نماز بغیر وضو کے کوئی نہ پڑھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کی دو شبنہ کے روز اور دفن کئے گئے منگل کے روز اور نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں نے اکیلے اکیلے کوئی ان کا امام نہ تھا پھر کہا بعض لوگوں نے دفن کئے جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پاس اور بعض نے کہا بقیع میں تو آئے حضرت ابوبکر اور کہا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہیں دفن کیا گیا کوئی نبی مگر اس مقام میں جہاں اس کی وفات ہوئی پھر کھودی گئی قبر اسی مقام میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تھی جب غسل کا وقت آیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اتارنا چاہا سو ایک آواز سنی مت اتارو کرتے کو پس نہ اتارا گیا کرتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور غسل دیئے گئے کرتہ پہنے ہوئے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 16 · Burials

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔