سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 534

نمبر 534کتاب 16، نمبر 15
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - بِمَرَضِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَخُرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلاً فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِهَا فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْنَا أَنْ نُخْرِجَكَ لَيْلاً وَنُوقِظَكَ ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ‏.‏
ابوامامہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسکین بیمار ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ بیمار پرسی کرتے تھے مسکینوں کی اور ان کا حال پوچھتے تھے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مر جائے یہ عورت تو مجھے خبر کرنا سو رات کو اس کا جنازہ نکلا اور صحابہ نے ناپسند کیا کہ جگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب صبح ہوئی تو اس کی کیفیت معلوم ہوئی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے تو تم سے کہہ دیا تھا کہ مجھے خبر کر دینا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جگانا اور رات کو باہر نکالنا نا گوار ہوا سو نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صف باندھی اس کی قبر پر اور چار تکبیریں کہیں
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 16 · Burials

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔