نمبر 515کتاب 15، نمبر 46
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلاَةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ - أَوْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ - قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً " .
علاء بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ہم گئے انس بن مالک کے پاس بعد ظہر کے تو کھڑے ہوئے وہ نماز عصر کے واسطے پس جب فارغ ہوئے نماز سے بیان کیا ہم نے یا انہوں نے نماز جلد پڑھنے کا حال تو کہا انس نے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھے رہتا ہیں جب آفتاب زرد ہو جاتا ہے یا اس کے اوپر ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگے لگا لیتا ہے اس میں، نہیں یاد کرتا اللہ کو مگر تھوڑا ۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihSalim al-Hilali