ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، مَوْلًى لآلِ الشِّفَاءِ - وَكَانَ يُقَالُ لَهُ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِمِصْرَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ أَوِ الْبَوْلَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَدْبِرْهَا بِفَرْجِهِ " .
ابو ایوب انصاری سے روایت ہے جو صحابی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ وہ مصر میں کہتے تھے قسم اللہ کی میں کیا کروں ان پائخانوں کا حالانکہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جائے کوئی تم میں سے پائخانہ یا پیشاب کو تو نہ منہ کرے قبلہ کی طرف اور نہ پیٹھ کرے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةُ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ .
ایک مرد انصاری سے روایت ہے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منع کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منہ کرنے سے پیشاب یا پائخانہ میں ۔
ماخذ میں درج درجات
- Sahih LighairihiSalim al-Hilali
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ قَالَ لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ . قَالَ قُلْتُ لاَ أَدْرِي وَاللَّهِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے بعض لوگ سمجھتے ہیں جب تو اپنی حاجت کو جائے تو منہ نہ کر قبلہ اور بیت المقدس کی طرف عبداللہ بن عمر نے کہا میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر حاجت ادا کر رہے ہیں منہ ان کا بیت المقدس کی طرف ہے پھر کہا عبداللہ بن عمر نے واسع بن حبان سے شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی سرینوں پر نماز پڑھتے ہیں واسع نے کہا میں نہیں سمجھا کہا مالک نے اس قول کی تفسیر میں وہ لوگ ہیں جو سجدہ میں زمین سے لگ جاتے ہیں اور اپنی پیٹھ کو سرین سے جدا نہیں رکھتے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھوک پڑا ہے قبلہ کی دیوار پر سو چھڑایا اس کو پھر متوجہ ہوئے لوگوں پر اور فرمایا جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اس لئے کہ اللہ اس کے سامنے ہے جب وہ نماز پڑھ رہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا دیوار میں قبلہ کے تھوک یا رینٹ یا بلغم تو چھڑا دیا اس کو۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے مسجد قبا میں صبح کی اتنے میں ایک شخص آکر بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو قرآن اترا اور حکم ہوا کعبہ کی طرف منہ کرنے کا پھر گئے وہ لوگ نماز میں کعبہ کی طرف اور پہلے منہ ان کے شام کی طرف تھے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد مدینہ میں آنے کے سولہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف پھر قبلہ بدل گیا دو مہینے پہلے جنگ بدر سے
ماخذ میں درج درجات
- Sahih LighairihiSalim al-Hilali
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ إِذَا تُوُجِّهَ قِبَلَ الْبَيْتِ .
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا درمیان پورب اور پچھم کے قبلہ ہے جب منہ کرے خانہ کعبہ کی طرف ۔
ماخذ میں درج درجات
- Mauquf SahihSalim al-Hilali
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، سَلْمَانَ الأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نماز پڑھنا میری مسجد میں بہتر ہے ہزار نمازوں سے دوسری مسجد میں سوائے مسجد حرام کے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر اور منبر کے بیچ میں ایک باغیچہ ہے جنت کے باغیچوں میں سے اور منبر میرا حوض پر ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور منبر کے بیچ میں ایک باغیچہ ہے جنت کے باغوں میں سے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فَلاَ تَمَسَّنَّ طِيبًا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مت منع کرو اللہ جل جلالہ کی لونڈیوں کو مسجد میں آنے سے ۔ بسر بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی عورت عشاء کی جماعت میں آئے تو خوشبو لگا کر نہ آئے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهَا كَانَتْ تَسْتَأْذِنُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَسْكُتُ فَتَقُولُ وَاللَّهِ لأَخْرُجَنَّ إِلاَّ أَنْ تَمْنَعَنِي . فَلاَ يَمْنَعُهَا .
حضرت عمر بن خطاب کی بی بی عاتکہ اجازت مانگتی تھیں حضرت عمر سے مسجد جانے کی تو چپ ہو جاتے حضرت عمر پس کہتیں عاتکہ میں تو قسم اللہ کی جاؤں گی جب تک تم منع نہ کروں گے تو نہیں منع کرتے تھے حضرت عمر ان کو ۔
ماخذ میں درج درجات
- Mauquf DaifSalim al-Hilali
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسَاجِدَ كَمَا مُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ . قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَوَمُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ الْمَسَاجِدَ قَالَتْ نَعَمْ .
حضرت ام المومنین عائشہ نے کہا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے جو اس زمانے میں عورتوں نے نکالا ہے البتہ روک دیتے ان کو مسجدوں میں جانے سے جیسے روک دی گئیں عورتیں بنی اسرائیل کی کہا یحیی بن سعید نے میں نے پوچھا عمرہ سے کیا بنی اسرائیل کی عورتیں روکی گئیں تھیں مسجدوں سے؟ کہا ہاں ۔
ماخذ میں درج درجات
- Mauquf SahihSalim al-Hilali
عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔