سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

کتاب 11 · The Fear Prayer

4 روایات · نمبر 441–444

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

نمبر 441کتاب 11، نمبر 1
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاَةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاَتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ ‏.‏
روایت ہے اس شخص سے جس نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں خوف کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوئے نماز کو اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہے تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی ان لوگوں کے ساتھ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور وہ لوگ اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے وہ آئے ان کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر آپ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے ایک رکعت پڑھی جب آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 442کتاب 11، نمبر 2
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ صَلاَةَ الْخَوْفِ أَنْ يَقُومَ الإِمَامُ وَمَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ فَيَرْكَعُ الإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ وَيَنْصَرِفُونَ وَالإِمَامُ قَائِمٌ فَيَكُونُونَ وِجَاهَ الْعَدُوِّ ثُمَّ يُقْبِلُ الآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمُ الرَّكْعَةَ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ ‏.‏
سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے انہوں نے کہا نماز خوف کی اس طرح پر ہے کہ امام کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ نماز کے لئے کھڑا کر لے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہیں تو امام ایک رکعت پڑھے اور سجدہ کرے جب سجدہ سے کھڑا ہو تو امام کھڑا رہے اور مقتدی اپنی ایک رکعت جو باقی ہے پڑھ کو سلام پھیر کر چلے جائیں دشمن کے سامنے اور دشمن کے سامنے جو لوگ تھے وہ آکر تکبیر تحریمہ کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوں تو امام رکوع اور سجدہ سے فارغ ہو کر سلام پھیر دے اور لوگ کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیریں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 443کتاب 11، نمبر 3
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَةِ الْخَوْفِ، قَالَ يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الإِمَامُ رَكْعَةً وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلاَ يُسَلِّمُونَ وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَتَقُومُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الإِمَامُ فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ كَانَ خَوْفًا هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالاً قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب سوال ہوتا نماز خوف کا کہتے امام آگے بڑھے نماز کو اور کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوں تو ان کو امام ایک رکعت پڑھائے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے ہوں تو جب وہ لوگ جو امام کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھ چکیں دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ چلے آئیں جہنوں نے نماز نہیں شروع کی اب وہ لوگ امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھیں پھر امام سلام پھیر دے اور باری باری ہر ہر گروہ کے لوگ آکر ایک ایک رکعت اور پڑھ کر نماز اپنی تمام کریں تاکہ ہر ایک گروہ کی دو دو رکعتیں ہو جائیں اور اگر خوف بہت سخت ہو تو کھڑے کھڑے پیادے نماز پڑھ لیں اشارے سے اور سوار سواری پر اگرچہ منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ ہو ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 444کتاب 11، نمبر 4
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَحَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز نہیں پڑھی جنگ خندق میں یہاں تک کہ ڈوب گیا آفتاب۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiSalim al-Hilali

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔