نمبر 22کتاب 1، نمبر 22
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ فَلَقِيَ رَجُلاً لَمْ يَشْهَدِ الْعَصْرَ فَقَالَ عُمَرُ مَا حَبَسَكَ عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ فَذَكَرَ لَهُ الرَّجُلُ عُذْرًا فَقَالَ عُمَرُ طَفَّفْتَ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَيُقَالُ لِكُلِّ شَىْءٍ وَفَاءٌ وَتَطْفِيفٌ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب عصر کی نماز پڑھ کر لوٹے ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو عصر کی نماز میں نہ تھا پوچھا آپ نے، کس وجہ سے تم رک گئے جماعت میں آنے سے؟ اس نے کچھ عذر بیان کیا تب فرمایا آپ نے طففت کہا امام مالک طففت تطفیف سے ہے عرب لوگ کہا کرتے ہیں لکل شییء وفاء وتطفیف
ماخذ میں درج درجات
- Mauquf DaifSalim al-Hilali