نمبر 2004کتاب 9، نمبر 160
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ . فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي . فَرَأَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ فَقَالَ " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ . الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں، اور اس کو لے لوں، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا: عبد بن زمعہ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎، سودہ تم اس سے پردہ کرو ۲؎۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAl-Albani
- SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
- SahihShuaib Al Arnaut
- Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai