سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 3923

نمبر 3923کتاب 35، نمبر 31
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي بَيْتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ قَالَ ‏"‏ خَيْرًا رَأَيْتِ تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلاَمًا فَتُرْضِعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَوَلَدَتْ حُسَيْنًا أَوْ حَسَنًا فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمَ قَالَتْ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ فَبَالَ فَضَرَبْتُ كَتِفَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَوْجَعْتِ ابْنِي رَحِمَكِ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
قابوس کہتے ہیں کہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ کو اللہ تعالیٰ بیٹا عطا کرے گا اور تم اسے دودھ پلاؤ گی ، پھر جب حسین یا حسن ( رضی اللہ عنہما ) پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کو دودھ پلایا، جو قثم بن عباس کا دودھ تھا، پھر میں اس بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، اور آپ کی گود میں بٹھا دیا، اس بچے نے پیشاب کر دیا، میں نے اس کے کندھے پر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے میرے بچے کو تکلیف پہنچائی ہے، اللہ تم پر رحم کرے !۔
ماخذ میں درج درجات
  • DaifAl-Albani
  • DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 35 · Interpretation of Dreams

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔