سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 3208

نمبر 3208کتاب 28، نمبر 9
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلاَبِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كِلاَبٌ أُخَرُ فَلاَ تَأْكُلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُهُ - يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ الْمُنْذِرِ - يَقُولُ حَجَجْتُ ثَمَانِيَةً وَخَمْسِينَ حِجَّةً أَكْثَرُهَا رَاجِلٌ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو «بسم الله» کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکار کو کھاؤ جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کر دیا ہو، سوائے اس کے کہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اگر کتے نے کھا لیا تو مت کھاؤ، اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہو گئے ہوں تو بھی مت کھاؤ ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • SahihShuaib Al Arnaut
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 28 · Chapters on Hunting

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔