سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 3192

نمبر 3192کتاب 27، نمبر 31
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَصَابَ الْقَوْمُ حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا ‏.‏ فَأَكْفَأْنَاهَا ‏.‏ فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى حَرَّمَهَا تَحْرِيمًا قَالَ تَحَدَّثْنَا أَنَّمَا حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَلْبَتَّةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ ‏.‏
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق ( سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ۱؎۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • SahihShuaib Al Arnaut
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 27 · Chapters on Slaughtering

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔