نمبر 3008کتاب 25، نمبر 127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا وَلاَ هَذَا عَلَى هَذَا - وَرُبَّمَا قَالَ هَؤُلاَءِ عَلَى هَؤُلاَءِ وَلاَ هَؤُلاَءِ عَلَى هَؤُلاَءِ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر
ماخذ میں درج درجات
- SahihAl-Albani
- SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
- SahihShuaib Al Arnaut
- Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai