سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 2389

نمبر 2389کتاب 14، نمبر 15
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى، - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ جَدَّتَهُ، خَيْرَةَ - امْرَأَةَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحُلِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَذَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ فِي مَالِهَا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا فَهَلِ اسْتَأْذَنْتِ كَعْبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ زَوْجِهَا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ أَذِنْتَ لِخَيْرَةَ أَنْ تَتَصَدَّقَ بِحُلِيِّهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَبِلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا ‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خیرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا زیور لے کر آئیں، اور عرض کیا: میں نے اسے صدقہ کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں، کیا تم نے کعب سے اجازت لے لی ہے ؟ وہ بولیں: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیج کر پچھوایا، کیا تم نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے ، وہ بولے: جی ہاں، تب جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا صدقہ قبول کیا۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • DaifShuaib Al Arnaut
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 14 · The Chapters on Gifts

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔