نمبر 2375کتاب 14، نمبر 1
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ انْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ يَحْمِلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ " فَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " . قَالَ " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَلاَ إِذًا " .
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز نعمان کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسی ہی چیزیں دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب میرے علاوہ کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہارے سارے بیٹے تم سے نیک سلوک کرنے میں برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ایسا مت کرو ۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAl-Albani
- SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
- SahihShuaib Al Arnaut
- Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai