سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 2262

نمبر 2262کتاب 12، نمبر 126
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، أَوْ سِمَاكٌ - وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ سِمَاكًا - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فَكُنْتُ آخُذُ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ مِنَ الذَّهَبِ وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ ‏.‏ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا أَخَذْتَ أَحَدَهُمَا وَأَعْطَيْتَ الآخَرَ فَلاَ تُفَارِقْ صَاحِبَكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی ( جو قیمت میں ٹھہرتی ) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا ( جو قیمت میں ٹھہرتا ) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • DaifAl-Albani
  • DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 12 · The Chapters on Business Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔