سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 420

نمبر 420کتاب 1، نمبر 154
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ ‏"‏ هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلاَةً ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا فَقَالَ ‏"‏ هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي ‏"‏ ‏.‏
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • DaifAl-Albani
  • DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • DaifShuaib Al Arnaut
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 1 · The Book of Purification and its Sunnah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔